اگر آپ اس کتاب کو حقیقت میں دیکھیں تو اس کے سائز کو دیکھ کر آپ کی آنکھیں پھٹ جائیں گی:
، جسے دنیا بھر میں "شیطان کی بائبل" (Devil's Bible) کے نام سے جانا جاتا ہے، قرون وسطیٰ کی سب سے بڑی اور پراسرار ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب اپنی غیر معمولی جسامت، قدیم تاریخ اور اس کے گرد گھومتی خوفناک داستانوں کی وجہ سے اردو دان طبقے میں بھی کافی مقبول ہے۔ کوڈیکس گیگاس کی تاریخ اور تخلیق
انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر موجود پراسرار کہانیوں کے چینلز کی وجہ سے، کے حوالے سے لوگ بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ کتاب صرف ایک تاریخی دستاویز نہیں، بلکہ انسانی تخیل، خوف، اور قرون وسطیٰ کے عقائد کا ایک منفرد امتزاج ہے۔ نتیجہ
تاریخی واقعات اور قدیم یہودی تاریخ۔ codex gigas book in urdu
پھر بھی، شیطان کی تصویر اتنی بھیانک ہے کہ یہ لیجنڈ آج بھی زندہ ہے۔
You can view a fully digitized version of the original manuscript on the National Library of Sweden's website . Key Takeaways
کوڈیکس گیگاس کے کچھ صفحات جان بوجھ کر پھاڑ کر الگ کر دیے گئے ہیں۔ یہ صفحات شیطان کی تصویر کے فوراً بعد آتے ہیں۔ مؤرخین کا ماننا ہے کہ ان صفحات پر شاید یا کوئی ایسی جادوئی ترکیبیں لکھی ہوئی تھیں جو عام انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھیں، اسی لیے خانقاہ کے راہبوں نے انہیں تلف کر دیا۔ یہ کتاب اب کہاں ہے؟ codex gigas book in urdu
لیکن سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ، گویا کسی نے جان بوجھ کر اسے چھپا دیا ہو۔
کوڈیکس گیگاس (Codex Gigas) ، جسے دنیا بھر میں "شیطانی بائبل"
اس کتاب کو "ڈیسیوں کی بائبل" کہنے کی سب سے بڑی وجہ اس کے صفحہ نمبر 290 پر بنی ہے۔ قرون وسطیٰ کی کسی بھی دوسری بائبل یا مذہبی کتاب میں شیطان کو اس طرح اتنی بڑی تصویر کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا۔ اس تصویر میں شیطان کے ہاتھ پاؤں میں چار انگلیاں ہیں، اس کے سینگ ہیں اور دو زبانیں باہر نکلی ہوئی ہیں، جو دھوکے اور فریب کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ codex gigas book in urdu
ہے اور اس کی لمبائی تقریباً 36 انچ ہے۔ یہ کتاب 160 گدھوں کی کھال (Vellum) سے تیار کی گئی ہے۔ زبان و مواد:
یہ دنیا کی سب سے بڑی زندہ بچ جانے والی قرون وسطیٰ کی کتاب ہے۔ لاطینی زبان میں "کوڈیکس گیگاس" کا مطلب ہے۔